حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عراق کے صوبۂ نینوا کی صوبائی کونسل کے رکن محمد عارف الشبکی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ریاست کے اختیار میں موجود اسلحے کو محدود کرنے کے مطالبات کے ساتھ عراقی فوج اور حشد الشعبی کی دفاعی صلاحیتوں کو بھی مضبوط کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عراقی فوج اور حشد الشعبی جیسے دفاعی اداروں کی حمایت ہی کسی بھی بیرونی خطرے کے مقابلے میں عراق کی سرحدوں اور فضائی حدود کے تحفظ کی ضمانت فراہم کر سکتی ہے۔
الشبکی نے کہا کہ موجودہ مرحلے میں ایسے متوازن منصوبے کی ضرورت ہے جو قانون کی بالادستی کے نفاذ اور سکیورٹی نظام کو مضبوط بنانے کے درمیان توازن قائم کرے۔
ان کا کہنا ہے کہ عراقی فوج اور حشد الشعبی عراق کی سلامتی اور قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے مضبوط دیوار کی حیثیت رکھتی ہیں۔
نینوا صوبائی کونسل کے رکن نے مزید کہا کہ حشد الشعبی ہمیشہ سے عراقی عوام کے دفاع میں بنیادی ستون اور اہم رکن رہی ہے اور اس نے ان بیشتر صوبوں بالخصوص صوبہ نینوا کو آزاد کروانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے جن پر دہشت گردوں نے قبضہ کر دیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مزاحمتی گروہوں اور سکیورٹی فورسز نے دہشت گرد تنظیم داعش کا مقابلہ کرنے اور ملک میں استحکام واپس لانے کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔









آپ کا تبصرہ